غزل 6 اشعار

ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزری

Hawa-e be taraf-o-fasl-e be samar guzri

ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزریترے بغیر گزرنا ہی کیا مگر گزری

شریک شورش دنیا ہوں اور سوچتا ہوںکہ شمع بزم طرب سے بھی چشم تر گزری

نہ تھی پہاڑ سے کچھ کم مگر مصیبت‌‌ عمرترے خیال میں گزری تو مختصر گزری

کوئی بھی کام نہ آیا شکستہ بالی میںصبا بھی شاخ نشیمن کو کاٹ کر گزری

مری نگاہ نے خوابوں میں خود کو پہچاناکہ جاگتے میں جو گزری وہ بے بصر گزری

زمانے بھر سے الگ ہو کے میں ادھر کو چلاجدھر جدھر سے مرے دل کی رہ گزر گزری

— خورشیدرضوی