غزل 4 اشعار

رہوں خموش تو جاں لب پہ آئی جاتی ہے

Rahoon khamosh to jaan lab pe aayi jaati hai

رہوں خموش تو جاں لب پہ آئی جاتی ہےجو کچھ کہوں تو قیامت اٹھائی جاتی ہے

یہی رہا ہے ہمیشہ سے زندگی کا مزاجہجوم جلوہ ہے اور نیند آئی جاتی ہے

نکالتی نہیں کیوں خال و خد کہ جب شب و روزحرم کے چاک پہ امت چڑھائی جاتی ہے

دبائے بیٹھی ہے جس کو ابھی سیاہیٔ شبمجھے وہ صبح درخشاں دکھائی جاتی ہے

— خورشیدرضوی