تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
کلام: مرزا غالب
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملےحوران خلد میں تری صورت مگر ملے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملےحوران خلد میں تری صورت مگر ملے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیازخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلکہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کےُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے
یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیاویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے