برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے
جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کیاگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے
جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کیاگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے
گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہےدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے
نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلےپوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرصآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص
ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمعدن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص
اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیںہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں
تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پرمبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں