چھلکائیے جام
کلام: مجروح سلطانپوری
چھلکائیے جامآئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام
پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کےآج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
چھلکائیے جامآئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام
پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کےآج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے
تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیاپیا پیا بولے متوالا جیا
بانہوں میں چھپا کے یہ کیا کیا او رے پیاپاس بلا کے گلے سے لگا کے