7 اشعار

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

Hum ko junoon kya sikhlate ho hum the pareshan tum se zyada

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

«ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ

چاک جگر محتاج رفو ہے آج تو دامن صرف لہو ہےاک موسم تھا ہم کو رہا ہے شوق بہاراں تم سے زیادہ

عہد وفا یاروں سے نبھائیں ناز حریفاں ہنس کے اٹھائیںجب ہمیں ارماں تم سے سوا تھا اب ہیں پشیماں تم سے زیادہ

ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکنیہ نہ سمجھنا ہم کو ہوا ہے جان کا نقصاں تم سے زیادہ

جاؤ تم اپنے بام کی خاطر ساری لویں شمعوں کی کتر لوزخم کے مہر و ماہ سلامت جشن چراغاں تم سے زیادہ

دیکھ کے الجھن زلف دوتا کی کیسے الجھ پڑتے ہیں ہوا سےہم سے سیکھو ہم کو ہے یارو فکر نگاراں تم سے زیادہ

زنجیر و دیوار ہی دیکھی تم نے تو مجروحؔ مگر ہمکوچہ کوچہ دیکھ رہے ہیں عالم زنداں تم سے زیادہ

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں