9 اشعار

جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے

Jala ke mashal-e-jaan hum junoon sifat chale

جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے

«جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے

دیار شام نہیں منزل سحر بھی نہیںعجب نگر ہے یہاں دن چلے نہ رات چلے

ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہیوہیں پہنچتی ہے یارو کہیں سے بات چلے

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغجہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

ہوا اسیر کوئی ہم نوا تو دور تلکبپاس طرز نوا ہم بھی ساتھ ساتھ چلے

بچا کے لائے ہم اے یار پھر بھی نقد وفااگرچہ لٹتے رہے رہزنوں کے ہاتھ چلے

پھر آئی فصل کہ مانند برگ آوارہہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے

قطار شیشہ ہے یا کاروان ہم سفراںخرام جام ہے یا جیسے کائنات چلے

بھلا ہی بیٹھے جب اہل حرم تو اے مجروحؔبغل میں ہم بھی لیے اک صنم کا ہاتھ چلے

— مجروح سلطانپوری