8 اشعار

جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں

Jalwa-e-gul ka sabab dida-e-tar hai ke nahin

جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں

«جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیںمیری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیں

راہ گم کردہ ہوں کچھ اس کو خبر ہے کہ نہیںاس کی پلکوں پہ ستاروں کا گزر ہے کہ نہیں

دل سے ملتی تو ہے اک راہ کہیں سے آ کرسوچتا ہوں یہ تری راہ گزر ہے کہ نہیں

تیز ہو دست ستم دے بھی شراب اے ساقیتیغ گردن پہ سہی جام سپر ہے کہ نہیں

میں جو کہتا تھا سو اے رہبر کوتاہ خرامتیری منزل بھی مری گرد سفر ہے کہ نہیں

اہل تقدیر یہ ہے معجزۂ دست عملجو خزف میں نے اٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں

دیکھ کلیوں کا چٹکنا سر گلشن صیادسب کی اور سب سے جدا اپنی ڈگر ہے کہ نہیں

ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروحؔزمزمہ سنج مرا خون جگر ہے کہ نہیں

— مجروح سلطانپوری