8 اشعار

ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے

Ada-e-tul-e-sukhan kya wo ikhtiyar kare

ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے

«ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرے

بہت ہی تلخ نوا ہوں مگر عزیز وطنمیں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے

قدم کو فیض جنوں سے وہ حوصلہ ہے نصیبجو خار راہ کو بھی شمع رہ گزار کرے

جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوقنہ جانے کب ہو سحر کون انتظار کرے

مثال ملتی ہے کتنوں کی اس دوانے سےچمن سے دور جو بیٹھا غم بہار کرے

دیار جور میں رستہ ہے اک یہی ورنہکسے پسند ہے اے دل کہ سیر دار کرے

خدا کرے غم گیتی کا پیچ و تاب اے دوستکچھ اور بھی تری زلفوں کو تابدار کرے

ستم کہ تیغ قلم دیں اسے جو اے مجروحؔغزل کو قتل کرے نغمے کو شکار کرے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں