4 اشعار

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح

Rehte the kabhi jin ke dil mein hum jaan se bhi pyaaron ki tarah

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح

«رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح

دعویٰ تھا جنہیں ہمدردی کا خود آ کے نہ پوچھا حال کبھیمحفل میں بلایا ہے ہم پہ ہنسنے کو ستم گاروں کی طرح

برسوں کے سلگتے تم من پر اشکوں کے تو چھینٹے دے نہ سکےتپتے ہوئے دل کے زخموں پر برسے بھی تو انگاروں کی طرح

سو روپ بھرے جینے کے لیے بیٹھے ہیں ہزاروں زہر پئےٹھوکر نہ لگانا ہم خود ہیں گرتی ہوئی دیواروں کی طرح

— مجروح سلطانپوری