گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
کلام: مرزا غالب
گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئیکھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئیکھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی