11 اشعار

آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں

Aabroo kya khaak us gul ki ke gulshan mein nahin

آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں

«آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیںہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتابذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہےپنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں

رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں

بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئےجلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں

ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمودقد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں

— مرزا غالب