8 اشعار

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

Aaina dekh apna sa munh le ke reh gaye

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

«آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریےاس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا

ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھااک گھر میں مختصر بیاباں ضرور تھا

اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاںہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا

درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سےوہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا

ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظارپروانۂ تجلی شمع ظہور تھا

شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کرپیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا

جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظرجوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا

— مرزا غالب