10 اشعار

باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے

Bagh pa kar khafqani yeh darata hai mujhe

باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے

«باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے

جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلومہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے

مدعا محو تماشائے شکست دل ہےآئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاکآسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے

زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے

باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھےچاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے

شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا ربآئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے

حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمعکس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے

میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیالبہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے

حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔدل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے

— مرزا غالب