7 اشعار

بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے

Bahut sahi gham-e-geeti sharaab kam kya hai

بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے

«بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہےغلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے

تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہےرقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے

سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے

کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوےکوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے

لکھا کرے کوئی احکام طالع مولودکسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے

نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کاخدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے

وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دموگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے

— مرزا غالب