10 اشعار

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار

Bala se hain jo yeh pesh-e-nazar dar o deewar

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار

«بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوارنگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار

وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار

نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یارگئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار

ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار

جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آکہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار

ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار

وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سےہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار

نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار

نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار

نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میںحریف راز محبت مگر در و دیوار

— مرزا غالب