11 اشعار

گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا

Gar na andooh-e-shab-e-furqat bayan ho ja'e ga

گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا

«گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گابے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا

زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آبپرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا

لے تو لوں سوتے میں اس کے پانو کا بوسہ مگرایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا

سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبطشعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا

واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔدوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حالخار گل بہر دہان گل زباں ہوجائے گا

گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہوبال شیشے کا رگ سنگ فساں ہوجائے گا

— مرزا غالب