8 اشعار

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

Gar khamoshi se fa'eda ikhfa-e-haal hai

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

«گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہدل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے

کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدارحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے

ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنیاے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے

مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جانناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرق انفعال ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔعالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔدل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے

— مرزا غالب