9 اشعار

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

Ghar jab bana liya tere dar par kahe baghair

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

«گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہمسر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر

غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں