گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
وہ بک چکے تھے جب ہم خریدنے کے قابل ہوئےزمانہ گزر گیا غالب ہمیں امیر ہوتے ہوتے
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گایہ ٹھیک کہتے ہو بے وفا ہوں وفا کروں گا تو کیا کروں گا
بس ایک تو ہی تو رہ گیا ہے جہاں سارے کو کھو چکا ہوںتجھے بھی اپنی آنا میں آ کر خفا کروں گا، تو کیا کروں گا