10 اشعار

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا

Gila hai shauq ko dil mein bhi tangī-e jā kā

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا

«گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوبمگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا

حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہیدوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا

غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا

ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا

دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا

نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا

فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔجفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا

مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہےمیں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا

ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کوعدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا

— مرزا غالب