3 اشعار

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے

Gulshan ko terī sohbat az bas ke KHush aa_ī hai

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے

«گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 25 سیکنڈ ہے۔

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے

از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے

— مرزا غالب