11 اشعار

ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل

Hai kis qadar halāk-e fareb-e vafā-e gul

ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل

«ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گلبلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل

آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرفٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل

جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیااے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل

خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جورکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل

ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہارمیرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل

شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سےمینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل

سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کیخوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل

تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تکبے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل

غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزوجس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل

دیوانگاں کا چارہ فروغ بہار ہےہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل

مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاںاے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل

— مرزا غالب