7 اشعار

ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے

Hai bazm-e butāñ mein suKHan āzurda laboñ se

ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے

«ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے

ہے دور قدح وجہ پریشانی صہبایک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے

رندان در مے کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے

بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے

کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاںخواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے

گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکنجاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے

مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیستدو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے

— مرزا غالب