13 اشعار

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا

Havas ko hai nashāt-e kār kyā kyā

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا

«ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

تجاہل پیشگی سے مدعا کیاکہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا

نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوںشکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا

نگاہ بے محابا چاہتا ہوںتغافل ہائے تمکیں آزما کیا

فروغ شعلۂ خس یک نفس ہےہوس کو پاس ناموس وفا کیا

نفس موج محیط بے خودی ہےتغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا

دماغ عطر پیراہن نہیں ہےغم آوارگی ہائے صبا کیا

دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحرہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا

محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھشہیدان نگہ کا خوں بہا کیا

سن اے غارت گر جنس وفا سنشکست شیشۂ دل کی صدا کیا

کیا کس نے جگر داری کا دعویٰشکیب خاطر عاشق بھلا کیا

یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوںیہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا

بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر باتعبارت کیا اشارت کیا ادا کیا

— مرزا غالب