9 اشعار

حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو

Hasad se dil agar afsurda hai garm-e tamāshā ho

حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو

«حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہوکہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو

بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھیبھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو

اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوےکف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو

بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہےکہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو

حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤںکہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو

بجائے دانہ خرمن یک بیاباں بیضۂ قمریمرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو

کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہیجسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو

دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایعنینگہ لبریز اشک و سینہ معمور تمنا ہو

نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوریخدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو

— مرزا غالب