4 اشعار

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

Ho ga_ī hai gair kī shīrīñ-bayānī kārgar

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

«ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگرعشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیںدامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں

باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرورلخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں

دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہےیاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں

— مرزا غالب