11 اشعار

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

Huī taKHīr to kuchh bā'is-e taKHīr bhī thā

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

«ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوںکبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا

دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا

پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہیآخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حقآدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

— مرزا غالب