7 اشعار

ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے

Hujūm-e ġham se yahāñ tak sar-nigūnī mujh ko hāsil hai

ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے

«ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہےکہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے

رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخم سوزن کیسمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے

وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔچٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے

ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینیتکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے

بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کاغریق بحر جویائے خس و خاشاک ساحل ہے

بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطرکہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے

نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخیغرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے

— مرزا غالب