10 اشعار

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

Husn-e mah garche ba-hangām-e kamāl achchhā hai

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

«حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہےاس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائےکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

— مرزا غالب