10 اشعار

حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے

Huzoor-e-Shah mein ahl-e-sukhan ki aazmaish hai

حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے

«حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے

قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے

کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخرابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے

نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہیاسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے

وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھےشکیب و صبر اہل انجمن کی آزمائش ہے

رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہترغرض شست بت ناوک فگن کی آزمائش ہے

نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائیوفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

پڑا رہ اے دل وابستہ بیتابی سے کیا حاصلمگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے

رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہوابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے

وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔنئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش ہے

— مرزا غالب