9 اشعار

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے

Is bazm mein mujhe nahin banti haya kiye

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے

«اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے

دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے

رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مےمدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے

بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدوکس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے

صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خودینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے

ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیںبھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے

غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے

— مرزا غالب