14 اشعار

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو

Waan pahunch kar jo ghash aata paye hum hai hum ko

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو

«واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو

دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہےکس قدر ذوق گرفتاری ہم ہے ہم کو

ضعف سے نقش پئے مور ہے طوق گردنترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو

جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امید بھی ہویہ نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو

رشک ہم طرحی و درد اثر بانگ حزیںنالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو

سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہاہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو

دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچارپاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو

تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو

لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنیہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو

مقطع سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزم سیر نجف و طوف حرم ہے ہم کو

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔجادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو

ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کروبرق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو

طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنیہجر یاراں وطن کا بھی الم ہے ہم کو

لائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امیدجادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو

— مرزا غالب