9 اشعار

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

Ki wafa hum se to ghair us ko jafa kehte hain

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

«کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سےکہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہوجو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں

دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سےاور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیاآگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں

دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگاس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں

وحشتؔ و شیفتہؔ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں

— مرزا غالب