2 اشعار

خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے

Khatar hai rishta-e-ulfat rag-e-gardan na ho jaave

خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے

«خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 17 سیکنڈ ہے۔

خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوےغرور دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جاوے

سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔاگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے

— مرزا غالب