6 اشعار

کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے

Koh ke hon baar-e-khatir gar sada ho jaaiye

کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے

«کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیےبے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے

بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفساز سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے

وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔیک بیاباں سایۂ بال ہما ہو جائیے

یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیںآشیان طائر رنگ حنا ہوجائیے

لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گابے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے

داداز دست جفائے صدمہ ضرب المثلگر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے

— مرزا غالب