6 اشعار

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

Koi din gar zindagani aur hai

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

«کوئی دن گر زندگانی اور ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوز غم ہائے نہانی اور ہے

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے

دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغام زبانی اور ہے

قاطع اعمار ہے اکثر نجوموہ بلائے آسمانی اور ہے

ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگ ناگہانی اور ہے

— مرزا غالب