9 اشعار

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

Kya tang hum sitam-zadagaan ka jahan hai

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

«کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے

ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے

حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے

کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے

کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیابس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے

بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میںفرماں رواۓ کشور ہندوستان ہے

ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے

ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدرغالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے

دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ متبے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے

— مرزا غالب