10 اشعار

کوئی امید بر نہیں آتی

Koi umeed bar nahin aati

کوئی امید بر نہیں آتی

«کوئی امید بر نہیں آتی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی

داغ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی

— مرزا غالب