3 اشعار

کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو

Kyun na ho chashm-e-butaan mahv-e-taghaful kyun na ho

کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو

«کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہویعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے

مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گیوائے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے

عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔجوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے

— مرزا غالب