6 اشعار

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

Lataafat be-kasafat jalwa paida kar nahin sakti

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

«لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا

حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحلجہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا

بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کاجنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا

برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرتبندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا

بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاںنگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا

اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کیکہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا

— مرزا غالب