10 اشعار

لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر

Larazta hai mera dil zahamat-e-mehr-e-darakhshan par

لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر

«لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر

نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر

فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر

فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر

نہیں اقلیم الفت میں کوئی طورمار ناز ایساکہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر

مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیاکہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر

بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگاقیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر

نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر

دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنیالٰہی یک قیامت خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر

اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سےکہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر

— مرزا غالب