8 اشعار

لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے

Loon waam bakht-e-khufta se yak khwab-e-khush walay

لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے

«لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولےغالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروںجوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں

آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سےدستار گرد شاخ گل نقش پا کروں

خوش افتادگی کہ بہ صحراۓ انتظارجوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں

صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاکدرد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں

وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میںوحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں

وہ التماس لذت بے داد ہوں کہ میںتیغ ستم کو پشت خم التجا کروں

وہ راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجزافشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں

— مرزا غالب