10 اشعار

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

Mane-e-dasht-navardi koi tadbir nahin

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

«مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں

شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاںجادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں

حسرت لذت آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں

رنج نومیدی جاوید گوارا رہیوخوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں

سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائےلذت سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں

جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر بجز خجلت تقصیر نہیں

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔآپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں

میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔجس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں

آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبثکہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں

مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توامتیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں

— مرزا غالب