7 اشعار

مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے

Muzhda ai zauq-e-asīrī ki nazar aata hai

مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے

«مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہےدام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس

جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہواجوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہےخوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس

میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلےدشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس

دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دلنہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس

دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہےخود بہ خود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس

مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہےبیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس

— مرزا غالب