12 اشعار

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

Qafas me.n huu.n gar achha bhii na jaane.n mere shaiwan ko

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

«قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو

نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پرکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو

خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میںکبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو

ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو

ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو

خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو

وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہےمرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو

شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کےجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو

مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔفریدون و جم و کے خسرو و داراب و بہمن کو

— مرزا غالب