8 اشعار

قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا

Qatra-e-mai bas-ke hairat se nafas-parvar hu.aa

قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا

«قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہواخط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا

اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھناغیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا

گرمیٔ دولت ہوئی آتش زن نام نکوخانۂ خاتم میں یاقوت نگیں اختر ہوا

نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خوآج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا

درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکستریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا

زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماںدانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا

اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوںنشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا

اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔتر زبان لفظ عام ساقیٔ کوثر ہوا

— مرزا غالب