7 اشعار

سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے

Saadgi par us ki mar jaane ki hasrat dil mein hai

سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے

«سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے

رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہےاٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے

جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے

ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تابرحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے

— مرزا غالب