7 اشعار

رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع

Rukh-e-nigar se hai soz-e-javdani shama

رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع

«رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 15 سیکنڈ ہے۔

رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمعہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع

زبان اہل زباں میں ہے مرگ خاموشییہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع

کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ قصہ تمامبہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع

غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلےترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع

ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہےبہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع

نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھشگفتگی ہے شہید گل خزانی شمع

جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کونہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع

— مرزا غالب