5 اشعار

صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے

Sad jalwa ro ba ro hai jo muzhgan uthaiye

صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے

«صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

ہے سنگ پر برات معاش جنون عشقیعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے

دیوار بار منت مزدر سے ہے خماے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے

یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیےیا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے

ہستی فریب نامۂ موج سراب ہےیک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے

— مرزا غالب